Recitation

Next: 4_163


Arabic

لَّـٰكِنِ ٱلرَّـٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ مِنۡهُمۡ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ يُؤۡمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَۚ وَٱلۡمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَۚ وَٱلۡمُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ أُوْلَـٰٓئِكَ سَنُؤۡتِيهِمۡ أَجۡرًا عَظِيمًا


Urdu

مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اُس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی اِس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخر پر سچا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے


English

But those firm in knowledge among them and the believers believe in what has been revealed to you, [O Muhammad], and what was revealed before you. And the establishers of prayer [especially] and the givers of zakah and the believers in Allah and the Last Day - those We will give a great reward


Tafsir — Bayan ul Quran

عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد 2،ص 454 ۔ یہود ونصاري كے پاس آسمانی علم تھا۔ ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کرلیتاہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام وحلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین بعض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اللہ والا بننے پر۔ چنانچہ وہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع كيے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لیے ہونے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا، نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔ یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلّام وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر اصلی آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل كيے جائیں گے۔


Connections

  • Previous: 4_161
  • Next: 4_163
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes