Recitation
Next: 4_136
Arabic
۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّـٰمِينَ بِٱلۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ أَوِ ٱلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَۚ إِن يَكُنۡ غَنِيًّا أَوۡ فَقِيرٗا فَٱللَّهُ أَوۡلَىٰ بِهِمَاۖ فَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلۡهَوَىٰٓ أَن تَعۡدِلُواْۚ وَإِن تَلۡوُۥٓاْ أَوۡ تُعۡرِضُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا
Urdu
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے
English
O you who have believed, be persistently standing firm in justice, witnesses for Allah, even if it be against yourselves or parents and relatives. Whether one is rich or poor, Allah is more worthy of both. So follow not [personal] inclination, lest you not be just. And if you distort [your testimony] or refuse [to give it], then indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted
Tafsir — Bayan ul Quran
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے ایسا معاملہ آتا ہے جس میں ایک راستہ اپنے مفاد اور خواہش کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اور انصاف کا۔ جولوگ اللہ کی طرف سے غافل ہوتے ہیں، جن کو یقین نہیں ہوتا کہ اللہ ہر وقت ان کو دیکھ رہا ہے وہ ایسے مواقع پر اپنی خواہش کے رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ اس کو کامیابی سمجھتے ہیں کہ حق کی پروا نہ کریں اور معاملہ کو اپنے مفاد اور اپنی مصلحت کے مطابق طے کریں۔ مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جو اللہ کو اپنا نگراں بنائے ہوئے ہیں وہ تمام تر انصاف کے پہلو کو دیکھتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو حق و انصاف کا تقاضا ہو۔ ان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ ان کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ انھوں نے کسی کے ساتھ بے انصافی نہ کی ہو، وہ اپنے آپ کو مکمل طورپر قسط اور عدل پر قائم کیے ہوئے ہوں۔ ان کی انصاف پسندی کا یہ جذبہ اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ ان کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ انصاف سے ہٹا ہوا کوئی رویہ دیکھیں اور اس کو برداشت کرلیں۔ جب بھی ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے ساتھ ناانصافی کررہا ہو تو وہ ایسے موقع پر حق کا اعلان کرنے سے باز نہیں رہتے۔ اگر انصاف کا اعلان کرنے میں ان کے قریبی تعلق والوں پر زد پڑتی ہو یا ان کی اپنی مصلحتیں مجروح ہوتی ہوں تب بھی وہ وہی کہتے ہیں جو انصاف کی رو سے انھیں کہنا چاہیے۔ ان کی زبان کھلتی ہے تو اللہ کے لیے کھلتی ہے، نہ کہ کسی اور چیز کے لیے۔ اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ صاحب معاملہ طاقت ور ہو تو اس کو اس کا حق دیا جائے اور اگر صاحب معاملہ کمزور ہو تو اس کا حق اس کو نہ دیا جائے۔ مومن وہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ انصاف کرے، خواہ وہ زور آور ہو یاکم زور۔ جب کوئی آدمی ناانصافی کا ساتھ دے تو وہ یہ کہہ کر ایسا نہیں کرتا کہ میں نا انصافی کرنے والے کا ساتھی ہوں۔ بلکہ وہ اپنی ناانصافی کو انصاف کا رنگ دینے کی کوشش کرتاہے۔ ایسے موقع پر ہر آدمی دو میں سے کوئی ایک رویہ اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ یہ کرتا ہے کہ بات کو بدل دیتا ہے۔وہ معاملہ کی نوعیت کو ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جس سے ظاہر ہو که یہ ناانصافی کا معاملہ نہیں بلکہ عین انصاف کا معاملہ ہے جس کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے وہ اسی کا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خاموشی اختیار کرلے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہاں ناانصافی کی جارہی ہے وہ کتراکر نکل جائے اور جو کہنے کی بات ہے اس کو زبان پر نہ لائے۔ اس قسم کا طرز عمل ثابت کرتاہے کہ آدمی اپنے اوپر اللہ کو نگراں نہیں سمجھتا۔