Recitation
Next: 39_7
Arabic
خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ يَخۡلُقُكُمۡ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ خَلۡقٗا مِّنۢ بَعۡدِ خَلۡقٖ فِي ظُلُمَٰتٖ ثَلَٰثٖۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ
Urdu
اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اُس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے یہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے، بادشاہی اسی کی ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے، پھر تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو؟
English
He created you from one soul. Then He made from it its mate, and He produced for you from the grazing livestock eight mates. He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation, within three darknesses. That is Allah, your Lord; to Him belongs dominion. There is no deity except Him, so how are you averted
Tafsir — Bayan ul Quran
اولاً ایک انسان وجود میں آیا۔ پھر عین اس کے مطابق اس کا ایک جوڑا نکالا گیا۔ اس طرح ابتدائی مرد وعورت کے ذریعہ انسانی نسل چلی۔ پھر انسان کی ضرورت کےلیے اس سے باہر اللہ تعالیٰ نے بے شمار چیزيں بنائیں۔ بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے (نرومادہ کو ملا کر آٹھ قسمیں) تہذیب کے ابتدائی دور میں ہزاروں سال تک انسان کی معیشت کا ذریعہ بنی رہیں۔ پھر جب تہذیب اگلے مرحلہ میں پہنچی تو دوسری بے شمار چیزوں کو انسان نے استعمال کرنا شروع کیا جن کو خدا نے اول روز سے ایسا بنا رکھا تھا کہ انسان ان کو اپنے کام میں لاسکے۔ جس طرح پالتو جانور طبیعی طورپر انسان کےلیے مسخر ہیں۔ اسی طرح گیسیں اور معدنیات بھی مسخر کی ہوئی ہیں۔ ورنہ انسان ان کو استعمال نہ کرسکے۔ مذکورہ آٹھ قسموں کی مثال بطور علامت ہے، نہ کہ بطور حصر۔ انسان کی پیدائش کے سلسلہ میں یہاں جن تین تاریکيوں کا ذکر ہے اس سے مراد تین پردے ہیں۔ اولاً پیٹ کی دیوار، پھر رحم مادر کا پردہ، اور پھر جنین کی بیرونی جھلّی The mother’s abdominal wall, the wall of the uterus, and the amniochorionic membrance. یہ سارا نظام اتنا حیرت ناک حد تک پیچیدہ اور عظیم ہے کہ خالق کائنات کے سوا کوئی اور ان کو ظہور میں نہیں لا سکتا۔ پھر اس کے سوا کون اس قابل ہے کہ اس کو معبود کا درجہ دیا جائے۔