Recitation
Next: 39_57
Arabic
أَن تَقُولَ نَفۡسٞ يَٰحَسۡرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنۢبِ ٱللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ ٱلسَّـٰخِرِينَ
Urdu
کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے “افسوس میری اُس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا
English
Lest a soul should say, “Oh [how great is] my regret over what I neglected in regard to Allah and that I was among the mockers
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔