Recitation

Next: 39_39


Arabic

وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ قُلۡ أَفَرَءَيۡتُم مَّا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ إِنۡ أَرَادَنِيَ ٱللَّهُ بِضُرٍّ هَلۡ هُنَّ كَٰشِفَٰتُ ضُرِّهِۦٓ أَوۡ أَرَادَنِي بِرَحۡمَةٍ هَلۡ هُنَّ مُمۡسِكَٰتُ رَحۡمَتِهِۦۚ قُلۡ حَسۡبِيَ ٱللَّهُۖ عَلَيۡهِ يَتَوَكَّلُ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ


Urdu

اِن لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے اِن سے کہو، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اُسی پر بھروسہ کرتے ہیں


English

And if you asked them, “Who created the heavens and the earth?” they would surely say, “Allah.” Say, “Then have you considered what you invoke besides Allah? If Allah intended me harm, are they removers of His harm; or if He intended me mercy, are they withholders of His mercy?” Say, “Sufficient for me is Allah; upon Him [alone] rely the [wise] reliers


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان ہر دور میں غیر اللہ کی عبادت کرتا رہا ہے۔ مگر کوئی شخص یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتا کہ اس کی انھیں پسندیدہ ہستیوں نے زمین وآسمان کو بنایا ہے۔ یا تکلیف اور آرام کے واقعات کے حقیقی اسباب ان کے اختیار میں ہیں۔ اس بے یقینی کے باوجود لوگوں کا یہ یقین بڑا عجیب ہے کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ جب داعی کی دلیلیں مدعو پر بے اثر ثابت ہوں تو اس وقت اس کے پاس کہنے کی جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ — تم جو چاہے کرو، جب آخری فیصلے کا دن آئے گا تو وہ بتادے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ناحق پر۔ یہ دلیل کے بعد یقین کا اظہار ہے، اور داعی کا آخری کلمه ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔


Connections

  • Previous: 39_37
  • Next: 39_39
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes