Recitation
Next: 39_32
Arabic
ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُونَ
Urdu
آخرکار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے
English
Then indeed you, on the Day of Resurrection, before your Lord, will dispute
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن کے بیانات انسان کی معلوم زبان اور انسان کے معلوم دائرہ کے اندر ہوتے ہیں تاکہ کسی کےلیے اس کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔ یہاں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ شرک کے مقابلہ میں توحید کا اصول زیادہ معقول اور زیادہ مطابقِ فطرت ہے۔ ایک طرف خارجی کائنات بتاتی ہے کہ یہاں ایک ہی ارادہ کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی ارادوں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کا نظام اس قدر ہم آہنگی کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔ دوسری طرف انسان کی ساخت بھی ایسی ہے جو وفاداری میں وحدت کو پسند کرتی ہے۔ یہ بات انسانی ساخت کے سراسر خلاف ہے کہ ایک انسان پر بیک وقت کئی مختلف قسم کی وفاداریوں کی ذمہ داری ہو اور نتیجۃً وہ ایک کو بھی نباہ نہ سکے۔ تمام دلائل وقرائن یہی بتاتے ہیں کہ صرف ایک خدا ہے جو انسان کا خالق اور اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ حقیقت اپنے جیسے انسان کی زبان سے سنائی جاتی ہے۔ قیامت میں خود خالق کائنات اس حقیقت کا اعلان فرمائے گا۔ اس وقت کسی شخص کےلیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اس امر کا انکار کرسکے۔