Recitation
Next: 39_24
Arabic
ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحۡسَنَ ٱلۡحَدِيثِ كِتَٰبٗا مُّتَشَٰبِهٗا مَّثَانِيَ تَقۡشَعِرُّ مِنۡهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمۡ وَقُلُوبُهُمۡ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهۡدِي بِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٍ
Urdu
اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے
English
Allah has sent down the best statement: a consistent Book wherein is reiteration. The skins shiver therefrom of those who fear their Lord; then their skins and their hearts relax at the remembrance of Allah. That is the guidance of Allah by which He guides whom He wills. And one whom Allah leaves astray - for him there is no guide
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہترین کتاب انسان کو عطا کی ہے۔ اس کی دو خاص صفتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ متشابہ (ملتی جلتی) ہے۔ یعنی وہ ایک بے تضاد کتاب ہے۔ اس کے ایک جزء اور اس کے دوسرے جزء میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ قرآن کی یہ صفت بتاتی ہے کہ یہ کتاب بیانِ حقیقت پر مبنی ہے۔ اگر اس کے بیانات عین حقیقت نہ ہوتے تو ضرور اس کے مختلف اجزاء کے درمیان اختلاف اور عدم یکسانیت (inconsistency) پیدا ہوجاتی۔ قرآن کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ مثانی (دہرائی ہوئی) کتاب ہے یعنی اس کے مضامین بار بار مختلف پیرایوں سے دہرائے گئے ہیں۔ قرآن کی یہ صفت اس کے کتابِ نصیحت ہونے کو بتاتی ہے۔ نصیحت کرنے والا ہمیشہ یہ چاہتاہے کہ اس کی بات سننے والے کے ذہن میں بیٹھ جائے۔ اس مقصد کےلیے وہ اپنی بات کو مختلف انداز سے بیان کرتاہے۔ یہی حکمت اعلیٰ ترین انداز میں قرآن میں بھی ہے۔ انسان کے اندر یہ خصوصیت ہے کہ جب وہ کوئی دہشت ناک خبر سنتاہے تو اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے وجود میں ایک قسم کی عاجزانہ نرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی حال سنجیدہ انسان کا قرآن کو پڑھ کر ہوتاہے۔ قرآن میں زندگی کی سنگین حقیقتوں کو انتہائی موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس ليے انسان جیسی مخلوق اگر واقعۃً اس کو سمجھ کر پڑھے تو اس کے جسم کے اوپر وہی کیفیت طاری ہوگی جو کسی سنگین خبر کو سن کر فطری طورپر اس کے اوپر طاری ہونا چاہيے۔