Recitation

Next: 37_76


Arabic

وَلَقَدۡ نَادَىٰنَا نُوحٞ فَلَنِعۡمَ ٱلۡمُجِيبُونَ


Urdu

ہم کو (اِس سے پہلے) نوحؑ نے پکارا تھا، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے


English

And Noah had certainly called Us, and [We are] the best of responders


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔ حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔


Connections

  • Previous: 37_74
  • Next: 37_76
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes