Recitation

Next: 36_79


Arabic

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلٗا وَنَسِيَ خَلۡقَهُۥۖ قَالَ مَن يُحۡيِ ٱلۡعِظَٰمَ وَهِيَ رَمِيمٞ


Urdu

اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہتا ہے “کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟


English

And he presents for Us an example and forgets his [own] creation. He says, “Who will give life to bones while they are disintegrated


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان اپنا خالق آپ نہیں۔ وہ بلا شبہ خالق کی مخلوق ہے۔ اس واقعہ کا تقاضا تھاکہ انسان کے اندر عجز کی صفت پائی جائے۔ مگر وہ حقیقت پسندی کو کھو کر ایسی بحثیں کرتا ہے جو اس کی حیثیت عجز سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ انسان کی اور کائنات کی تخلیق اول ہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ یہ تخلیق دوسری بار بھی ممکن ہے۔ مگراس کونظر انداز کرکے انسان یہ بحث نکالتا ہے کہ مردہ انسان دوبارہ زندہ انسان کیسے بن جائے گا۔ انسان کا مُردہ ہو کر پھر زندہ حالت میں تبدیل ہونے کا واقعہ بلا شبہ قیامت میں ہوگا۔ مگردوسری چیزوں میں یہ امکان آج ہی نظر آرہا ہے۔ مثلاً درخت کو دیکھو۔ درخت بظاہر ہرا بھرا ہوتا ہے۔ مگر جب وہ کاٹ کر لکڑی کی صورت میں جلایا جاتاہے تو وہ بالکل ایک مختلف صورت اختیار کرلیتا ہے جس کو آگ کہتے ہیں۔ایک چیز کا بدل کر بالکل دوسری چیز بن جانا ایک ثابت شدہ واقعہ ہے۔ بقیہ چیزوں میں خدا آج ہی اس کو ممکن بنا رہا ہے۔ انسانوں کےلیے وہ قیامت میں اس کو ممکن بنائے گا۔ مگر یہ منوانے کےلیے نہیں ہوگابلکہ اس ليے ہوگا کہ انسان کو اس کی سرکشی کا بدلہ دیا جائے۔


Connections

  • Previous: 36_77
  • Next: 36_79
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes