Recitation
Next: 36_7
Arabic
لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمۡ فَهُمۡ غَٰفِلُونَ
Urdu
تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
English
That you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are unaware
Tafsir — Bayan ul Quran
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے پیغمبر ہونے کا ثبوت خود وہ قرآن حکیم ہے جس کو آپ نے یہ کہہ کر پیش کیا کہ یہ میرے اوپر خدا کی طرف سے اترا ہے۔ قرآن کے حکیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ صراطِ مستقیم کا داعی ہے ۔ یعنی وہ اس راستے کی طرف رہنمائی کررہا ہے جو بالکل سیدھا اور سچا ہے۔ اس کی کوئی بات عقل اور فطرت سے ٹکرانے والی نہیں۔ قرآن کے نزول کو اب ڈیڑھ ہزار سال ہورہے ہیں۔ مگر آج تک اس میں کسی خلاف عقل یا خلافِ فطرت بات کی نشان دہی نہ کی جاسکی۔ قرآن کی یہی امتیازی صفت اس كے کتابِ الٰہی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ’’تاکہ تم قوم کو ڈرا دو‘‘ میں قوم سے مراد بنو اسماعیل ہیں۔ ہر نبی اولاً اپنی قوم کےلیے آتا ہے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کی اولین مخاطب بھی ان کی اپنی قوم تھی۔ مگر چونکہ آپ کے بعد نبوت ختم ہوگئی۔ اس ليے اب قیامت تک کےلیے آپ کی نبوت کا تسلسل جاری ہے۔ فرق یہ ہے کہ بنو اسماعیل پر آپ نے براہِ راست حجت تمام کی اور آپ کے بعد مختلف اقوام پر دعوت اور اتمام حجت کا کام آپ کی نیابت میں آپ کی امت کو انجام دینا ہے۔