Recitation
Next: 36_31
Arabic
يَٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
Urdu
افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے
English
How regretful for the servants. There did not come to them any messenger except that they used to ridicule him
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کسی قوم کی ہلاکت کا فیصلہ کیا جاتاہے تو اتنا ہی کافی ہوتا ہے زمینی اسباب کو اس کے خلاف کردیا جائے۔ ساری آسمانی طاقتوں کو اس کے خلاف استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ پیغمبروں کا استہزا کیوں کیاگیا، اس کا جواب خود لفظ ’’استہزاء‘‘ میں موجود ہے۔استہزا کرنے والے ہمیشہ اس انسان کا استہزاء کرتے ہیں جو ان کو حقیر دکھائی دیتا ہو۔ پیغمبروں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا۔ پیغمبر کی شخصیت کو ان کے ہم زمانہ لوگوں نے اِس سے کم سمجھا کہ ان کی زبان سے خدائی صداقت کا اعلان ہو اس ليے انھوںنے پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا۔