Recitation

Next: 35_9


Arabic

أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنٗاۖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۖ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرَٰتٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا يَصۡنَعُونَ


Urdu

(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا) جس کے لیے اُس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے پس (اے نبیؐ) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے


English

Then is one to whom the evil of his deed has been made attractive so he considers it good [like one rightly guided]? For indeed, Allah sends astray whom He wills and guides whom He wills. So do not let yourself perish over them in regret. Indeed, Allah is Knowing of what they do


Tafsir — Bayan ul Quran

اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سوچے اور حق اور ناحق کے درمیان تمیز کرسکے۔ جو آدمی اپنی اس فطری صلاحیت کو استعمال کرتا ہے وہ ہدایت پاتا ہے۔ اور جوشخص اس فطری صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا وہ ہدایت نہیں پاتا۔ آدمی کے سامنے جب حق آئے تو فوراً اس کے ذہن کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس وقت اس کےلیے دوراستے ہوتے ہیں۔ اگر وہ حق کا اعتراف کرلے تو اس کا ذہن صحیح سمت میں چل پڑتا ہے۔ وہ حق کا مسافر بن جاتا ہے اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ کوئی مصلحت یا کوئی نفسیاتی پیچیدگی اس کے سامنے آ ئے اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا اعتراف کرنے سے رک جائے تو اس کا ذہن اپنے عدم اعتراف کو جائز ثابت کرنے کےلیے باتیں گھڑنا شروع کرتا ہے۔ وہ اپنے برے عمل کو اچھا عمل ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔ یہ ایک ذہنی بیماری ہے۔ اور جو لوگ اس قسم کی ذہنی بیماری میں مبتلا ہو جائیں وہ کبھی حق کا اعترا ف نہیں کرپاتے۔یہاں تک کہ اسی حال میں مرکر وہ خدا کے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ تاکہ اپنے کيے کا انجام پائیں۔


Connections

  • Previous: 35_7
  • Next: 35_9
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes