Recitation

Next: 35_43


Arabic

وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِن جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ لَّيَكُونُنَّ أَهۡدَىٰ مِنۡ إِحۡدَى ٱلۡأُمَمِۖ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ مَّا زَادَهُمۡ إِلَّا نُفُورًا


Urdu

یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آ گیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے اِن کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا


English

And they swore by Allah their strongest oaths that if a warner came to them, they would be more guided than [any] one of the [previous] nations. But when a warner came to them, it did not increase them except in aversion


Tafsir — Bayan ul Quran

عرب کے لوگ جب سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی تو وہ پرجوش طورپر کہتے کہ اگر ایسا ہو کہ ہمارے درمیان کوئی نبی آئے تو ہم اس کو پوری طرح مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ مگر جب ان کے درمیان ایک پیغمبر آیا تو وہ اس کے مخالف بن گئے۔ یہ نفسیات کسی نہ کسی شکل میں تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے کو حق پسند کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب بھی کوئی صحیح بات اس کے سامنے آئے گی تو وہ ضرور اس کو مان لے گا۔ مگر جب حق کھلے کھلے دلائل کے ساتھ آتاہے تو وہ اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔ حتی کہ اس کا مخالف بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انکار حق کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں۔ وہ انسانی نفسیات کی عام خصوصیت ہے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنی بڑائی کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس ليے وہ حق کو ماننے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتاہے کہ حق کا انکار ضرور اس کے بس میںہے مگر حق کے انکار کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا ہر گز اس کے بس میں نہیں۔


Connections

  • Previous: 35_41
  • Next: 35_43
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes