Recitation
Next: 35_40
Arabic
هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَكُمۡ خَلَـٰٓئِفَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهُۥۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ كُفۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ إِلَّا مَقۡتٗاۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ كُفۡرُهُمۡ إِلَّا خَسَارٗا
Urdu
وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے، اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رب کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں
English
It is He who has made you successors upon the earth. And whoever disbelieves - upon him will be [the consequence of] his disbelief. And the disbelief of the disbelievers does not increase them in the sight of their Lord except in hatred; and the disbelief of the disbelievers does not increase them except in loss
Tafsir — Bayan ul Quran
اس آیت میں خلیفہ سے مراد پچھلی قوموں کا خلیفہ بننا ہے۔ ’’تم کو زمین میں خلیفہ بنایا‘‘ کا مطلب ہے پچھلی قوموں کے گزرنے کے بعد تم کو ان کی جگہ زمین میں آباد کیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایک قوم کو زمین میں بسنے اور عمل کرنے کا موقع دیتاہے۔ پھر جب وہ قوم اپنی نا اہلی ثابت کردیتی ہے تو اس کو ہٹا کر دوسری قوم کو اس کی جگہ لے آتا ہے۔ اس طرح زمین پر ایک کے بعد ایک قوم کی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ موجودہ زمانہ میں فطرت کے جو قوانین دریافت ہوئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہاں اس کا امکان ہے کہ اندھیرے میں کسی چیز کا فوٹو لیا جائے۔ بظاہر نہ سنائی دینے والی آواز کو مشین کی مدد سے قابل سماعت بنایا جاسکے۔ تخلیق میںاس طرح کے امکانات خالق کی قدرت کاتعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ایسی ہستی ہے جو غیب کو جانے اور دل کے اندر چھپی ہوئی بات کو سن سکے۔ گویا انسان کا معاملہ ایک ایسے علیم اور قدیرخدا سے ہے جس سے نہ کسی جرم کو چھپایا جاسکتااور نہ یہی ممکن ہے کہ اس کے فیصلہ کو کسی طرح بدلوایا جاسکے۔