Recitation
Next: 35_30
Arabic
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ يَرۡجُونَ تِجَٰرَةٗ لَّن تَبُورَ
Urdu
جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا
English
Indeed, those who recite the Book of Allah and establish prayer and spend [in His cause] out of what We have provided them, secretly and publicly, [can] expect a profit that will never perish
Tafsir — Bayan ul Quran
علم والا وہ ہے جو معرفت والا ہو۔ اور جس شخص کو معرفت حاصل ہوجائے وہ خدا کی کتاب کو اپنا فکری رہبر بنا لیتاہے۔ وہ اللہ کا عبادت گزاربندہ بن جاتا ہے۔ انسانوں کے حق میں وہ اتنا مہربان ہوجاتا ہے کہ اپنی محنت کی کمائی میں سے ان کےلیے بھی حصہ لگاتاہے۔ اس کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوجاتاہے کہ ہمہ تن اپنے آپ کو خدا کے کام میں لگا دے اور اس پر قانع رہے کہ اس کا انعام اس کو آخرت میں دیا جائے گا۔ قرآن کی صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ عین ان پیشین گوئیوں کے مطابق ہے جو پچھلی کتابوں میں اس سے پہلے آچکی تھیں۔ اگر کوئی شخص سنجیدہ ہو تو یہی واقعہ اس کے قرآن پر ایمان لانے کےلیے کافی ہوجائے۔