Recitation
Next: 35_28
Arabic
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ ثَمَرَٰتٖ مُّخۡتَلِفًا أَلۡوَٰنُهَاۚ وَمِنَ ٱلۡجِبَالِ جُدَدُۢ بِيضٞ وَحُمۡرٞ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٞ
Urdu
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ سے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں پہاڑوں میں بھی سفید، سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں
English
Do you not see that Allah sends down rain from the sky, and We produce thereby fruits of varying colors? And in the mountains are tracts, white and red of varying shades and [some] extremely black
Tafsir — Bayan ul Quran
بادل سے ایک ہی پانی برستاہے مگر اس سے مختلف قسم کی چیزیں اگتی ہیں۔ اچھے درخت بھی اور جھاڑ جھنکاڑ بھی۔ اسی طرح ایک ہی مادہ ہے جو پہاڑوں کی صورت میں منجمد ہوتاہے مگر ان میں کچھ سرخ وسفید ہیں اور کچھ بالکل کالے۔ اسی طرح جاندار بھی سب ایک غذا کھاتے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی انسان کےلیے کار آمد ہے اور کوئی بے کار۔ اس سے معلوم ہوا کہ فیض خواہ عام ہو مگر اس سے فائدہ ہر ایک کو اس کی اپنی استعداد کے مطابق پہنچتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ دعوتِ حق کی صورت میں خدا کی جو رحمت بکھیری جاتی ہے وہ اگرچہ بذات خود ایک ہوتی ہے مگر مختلف انسان اپنے اندرونی مزاج کے مطابق اس سے مختلف قسم کا تاثر قبول کرتے ہیں۔ کوئی شخص حق کی دعوت میں اپنی روح کی غذا پالیتاہے۔ وہ فوراً اس کو قبول کرکے اپنے آپ کو اس سے وابستہ کردیتاہے اور کسی کی نفسیات اس کےلیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ وہ اس سے بدکتاہے، حتی کہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ حق کی دعوت جس شخص کےلیے اس کے دل کی آواز ثابت ہو وہی علم والا انسان ہے۔ اس کے اندر فطرت کی خدائی روشنی زندہ تھی ۔ اس ليے اس نے حق کے ظاہر ہوتے ہی اس کو پہچان لیا۔ اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جاہل ہیں جو اپنی فطرت کی روشنی پر پردہ ڈالے ہوئے ہوں اور جب حق ان کے سامنے بے نقاب ہو تو اس کو پہچاننے میں ناکام رہیں۔