Recitation
Next: 35_19
Arabic
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ وَإِن تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ إِلَىٰ حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٞ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰٓۗ إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفۡسِهِۦۚ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ
Urdu
کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے پکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصہ بھی بٹانے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (اے نبیؐ) تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے
English
And no bearer of burdens will bear the burden of another. And if a heavily laden soul calls [another] to [carry some of] its load, nothing of it will be carried, even if he should be a close relative. You can only warn those who fear their Lord unseen and have established prayer. And whoever purifies himself only purifies himself for [the benefit of] his soul. And to Allah is the [final] destination
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا میں انسان انتہائی حد تک غیر محفوظ (vulnerable) ہے۔ انسان کا سارا معاملہ فطرت کے خاص توازن پر منحصر ہے۔ یہ توازن باقی نہ رہے تو ایک لمحہ میں انسانی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔ سورج اگر اپنے موجودہ فاصلہ کو ختم کرکے زمین کے قریب آجائے تو اچانک تمام انسان جل بھن کر خاک ہوجائیں۔زمین کے اندر اس کا بڑا حصہ بے حد گرم مادہ کی صورت میں ہے۔ اس گرم مادہ کی حرکت اوپر کی طرف ہوجائے تو سطح زمین پر ایسا زلزلہ پیداہو کہ تمام آبادیاں کھنڈر بن کر رہ جائیں۔ اوپر ی فضا سے ہر وقت شہابی پـتھر (meteors) برستے رہتے ہیں۔ اگر موجودہ انتظام بگڑ جائے تو یہ شہابئے ایک ایسی سنگ باری کی صورت اختیار کرلیں جس سے کسی حال میں بھی بچاؤ ممکن نہ ہو۔ اس طرح کے بے شمار ہلاکت خیز امکانات ہر وقت انسان کو گھیرے میں ليے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو مکمل طورپر محتاج ہے۔ انسان کو خدا کی ضرورت ہے، نہ کہ خدا کو انسان کی ضرورت۔ قیامت کا بوجھ خود اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا، نہ کہ اینٹ پتھر کا بوجھ۔ اینٹ پتھر کے بوجھ میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کا حصہ دار بن سکتا ہے مگر خود اپنے برے عمل سے جو رسوائی اور تکلیف کسی شخص کو لاحق ہو وہ انتہائی ذاتی نوعیت کا عذاب ہوتاہے۔ اس میں کسی دوسرے کےلیے حصہ دار بننے کا سوال نہیں۔ حقیقت نہایت واضح ہے مگر حقیقت کو وہی شخص سمجھتا ہے جو اس کو سمجھنا چاہے۔ جو شخص اس بارے میں سنجیدہ ہی نہ ہو کہ حقیقت کیا ہے، اور بے حقیقت کیا، اس کو کوئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔