Recitation
Next: 35_15
Arabic
إِن تَدۡعُوهُمۡ لَا يَسۡمَعُواْ دُعَآءَكُمۡ وَلَوۡ سَمِعُواْ مَا ٱسۡتَجَابُواْ لَكُمۡۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُونَ بِشِرۡكِكُمۡۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيرٖ
Urdu
انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا
English
If you invoke them, they do not hear your supplication; and if they heard, they would not respond to you. And on the Day of Resurrection they will deny your association. And none can inform you like [one] Acquainted [with all matters]
Tafsir — Bayan ul Quran
زمین پر پانی کا عظیم الشان ذخیرہ موجود ہے، وسیع سمندروں میں کھاری پانی کی صورت میں، اور دریاؤں اور جھیلوں اور چشموں میں میٹھے پانی کی صورت میں۔ یہ پانی آدمی کےلیے بے شمار فوائد کا ذریعہ ہے۔ وہ پینے کےلیے اور آب پاشی کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے آبی جانور حاصل ہوتے ہیں جو انسان کےلیے قیمتی خوراک ہیں۔ کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصہ میں پھیلے ہوئے سمندر گویا وسیع آبی سڑکیں ہیں جنھوں نے سفر اور باربرداری کو بے حد آسان کردیا ہے۔ سمندروں سے موتی اور دوسری قیمتی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، وغیرہ۔ پھر وسیع خلا میں خدا نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے جن میں بے شمار فائدے ہیں۔ اس نے زمین کو سورج کے گرد اپنے محور پر کامل حساب کے ساتھ گھمارکھا ہے جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار کائناتی انتظامات ہیں جو صرف خدا کے قائم کردہ ہیں۔ پھر خدا کے سوا کون ہے جو انسان کے جذبۂ شکر کا مستحق ہو۔ اتھاہ طاقتیں رکھنے والا خدا انسان کی حاجتیں پوری کرسکتا ہے یا وہ مفروضہ معبود جو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔