Recitation
Next: 35_12
Arabic
وَٱللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ جَعَلَكُمۡ أَزۡوَٰجٗاۚ وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلۡمِهِۦۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٖ وَلَا يُنقَصُ مِنۡ عُمُرِهِۦٓ إِلَّا فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
Urdu
اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے بنا دیے (یعنی مرد اور عورت) کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے
English
And Allah created you from dust, then from a sperm-drop; then He made you mates. And no female conceives nor does she give birth except with His knowledge. And no aged person is granted [additional] life nor is his lifespan lessened but that it is in a register. Indeed, that for Allah is easy
Tafsir — Bayan ul Quran
پہلا انسان ارضی اجزا سے بنایا گیا۔ پھر خدا نے انسان کو ایک بوند میں بہ شکل بیج رکھ دیا۔ پھر انسانوںکو عورت اور مرد میں تقسیم کرکے ان کے جوڑے سے انسانی نسل چلائی۔ یہ واقعہ خدا کی بے پناہ قدرت کو بتاتا ہے۔ پھر ایک بچہ جب پیٹ میں پرورش پانا شروع کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ پیٹ کے اندر وہ تمام موافق اسباب بلا طلب موجود ہیں جو اس کو ناگزیر طورپر مطلوب تھے۔ یہ واقعہ مزید ثابت کرتاہے کہ بچے کا پیدا کرنے والا بچے کی ضرورتوں کو پہلے سے جانتا تھا ورنہ وہ پیشگی طور پر اس کا اتنا مکمل انتظام کس طرح کرتاہے۔ یہی معاملہ عمر کا ہے۔ کوئی شخص اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی عمر کا تعین کرسکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمر کا معاملہ تمام تر کسی خارجی ہستی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے کم عمر میں اٹھالیتا ہے اور جس کو چاہتاہے لمبی عمر دے دیتاہے۔ ان سارے واقعات میں ایک خدا کے سوا کسی کا کوئی دخل نہیں پھر کیسے درست ہوسکتاہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی اور سے اندیشہ رکھے، وہ کسی اور سے امیدیں قائم کرے۔