Recitation
Next: 34_53
Arabic
وَقَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ
Urdu
اُس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے حالانکہ اب دور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے
English
And they will [then] say, “We believe in it!” But how for them will be the taking [of faith] from a place far away
Tafsir — Bayan ul Quran
فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔