Recitation

Next: 34_47


Arabic

۞قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُواْۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ لَّكُم بَيۡنَ يَدَيۡ عَذَابٖ شَدِيدٖ


Urdu

اے نبیؐ، اِن سے کہو کہ “میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے


English

Say, “I only advise you of one [thing] - that you stand for Allah, [seeking truth] in pairs and individually, and then give thought.” There is not in your companion any madness. He is only a warner to you before a severe punishment


Tafsir — Bayan ul Quran

پیغمبر کے معاصرین نے پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیا۔ مگر اس کے پیچھے ضد اور تعصب کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ ضد اور تعصب سے خالی ہو کر سوچتے، خواہ اکیلے اکیلے سوچتے، یا چند آدمی مل کر اجتماعی طورپر غور کرتے، تو وہ پاتے کہ ان کا پیغمبر کوئی دیوانہ آدمی نہیں ہے۔ آپ کی سابقہ زندگی آپ کی سنجیدگی کی گواہی دیتی ۔ آپ کا درد مندانہ انداز بتاتا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی آپ کے دل کی آواز ہے۔ آپ کے کلام کا حکیمانہ اسلوب اس کی صحت کی داخلی شہادت نظر آتا۔ آپ کا کسی معاوضہ کا طالب نہ ہونا ظاہر کرتا کہ آپ نے اس کام کو محض اللہ کی خاطر شروع کیا ہے، نہ کہ ذاتی تجارت کی خاطر۔ غیر جانب دارانہ غور وفکر میں وہ جان لیتے کہ آپ کی بے قراری جنون کی بے قرار ی نہیں ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جس خطرہ سے ڈرانے کےلیے اٹھے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مگر وہ دعوت حق کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے اس ليے یہ کھلے ہوئے حقائق ان کو نظر بھی نہ آسکے۔


Connections

  • Previous: 34_45
  • Next: 34_47
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes