Recitation
Next: 34_42
Arabic
قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمۖ بَلۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٱلۡجِنَّۖ أَكۡثَرُهُم بِهِم مُّؤۡمِنُونَ
Urdu
تو وہ جواب دیں گے کہ “پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ اِن لوگوں سے دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے
English
They will say, “Exalted are You! You, [O Allah], are our benefactor not them. Rather, they used to worship the jinn; most of them were believers in them
Tafsir — Bayan ul Quran
فرشتے انسان کو نظر نہیں آتے۔ یہ دراصل پیغمبر ہیں جنھوںنے انسان کو فرشتوں کے وجود کی خبر دی۔ یہ خبر انھیں اس ليے دی گئی تھی کہ وہ خدا کے عظمت وجلال کو محسوس کریں اور پوری طرح اس کی عبادت میں لگ جائیں۔ مگر شیطان نے عجیب وغریب طورپر لوگوں کو سکھایا کہ براہِ راست خدا کا تقرب حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس ليے انھیں چاہيے کہ وہ فرشتوں کی عبادت کریں اور ان کے ذریعے سے خدا کا تقرب حاصل کریں۔ چنانچہ ساری دنیا میں فرشتوں کے بت بنا کر ان کی عبادت شروع کردی گئی۔ دیوی دیوتاؤں کا عقیدہ بھی دراصل فرشتوں ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جو فرشتہ بارش پر مقرر تھا اس کو بارش کا دیوتا سمجھ لیاگيا۔ جو فرشتہ ہوا پر مقرر تھا اس کو ہوا کا دیوتا سمجھ لیاگيا، وغیرہ۔ فرشتے آخرت میں ایسے عبادت گزاروں سے برأت ظاہر کریں گے۔ آخرت میں ان کو نہ خدا کی مدد حاصل ہوگی اور نہ فرشتوں کی۔ وہ ہمیشہ کےلیے بے یارومددگار ہوکر رہ جائیں گے۔