Recitation
Next: 34_5
Arabic
لِّيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
Urdu
اور یہ قیامت اس لئے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم
English
That He may reward those who believe and do righteous deeds. Those will have forgiveness and noble provision
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس ليے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔ مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہيے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔ حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔