Recitation
Next: 33_67
Arabic
يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ يَقُولُونَ يَٰلَيۡتَنَآ أَطَعۡنَا ٱللَّهَ وَأَطَعۡنَا ٱلرَّسُولَا۠
Urdu
جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ “کاش ہم نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی
English
The Day their faces will be turned about in the Fire, they will say, “How we wish we had obeyed Allah and obeyed the Messenger
Tafsir — Bayan ul Quran
قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔ ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔