Recitation

Next: 33_7


Arabic

ٱلنَّبِيُّ أَوۡلَىٰ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَأَزۡوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمۡۗ وَأُوْلُواْ ٱلۡأَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلَىٰ بِبَعۡضٖ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفۡعَلُوٓاْ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِكُم مَّعۡرُوفٗاۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَسۡطُورٗا


Urdu

بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں، مگر کتاب اللہ کی رو سے عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کر سکتے ہو یہ حکم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے


English

The Prophet is more worthy of the believers than themselves, and his wives are [in the position of] their mothers. And those of [blood] relationship are more entitled [to inheritance] in the decree of Allah than the [other] believers and the emigrants, except that you may do to your close associates a kindness [through bequest]. That was in the Book inscribed


Tafsir — Bayan ul Quran

پیغمبراپني زندگی میں ذاتی طورپر اور وفات کے بعد اصولی طورپر اہلِ ایمان کےلیے سب سے زیادہ مقدم حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔پیغمبر کی تعلیمات کی عظمت کو قائم رکھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس کا وجود لوگوں کی نظر میں مقدس وجود ہو۔ حتیٰ کہ اس کی بیویاں بھی لوگوں کےلیے ماؤں کی طرح قابل احترام قرار پائیں۔ پیغمبر اور آپ کی ازواج کے بعد امت کے بقیہ لوگوں کے تعلقات کی اساس یہ ہے کہ رحمی رشتے رکھنے والے الاقرب فالاقرب کے اصول پر ایک دوسرے کے حقدار ٹھہریں گے۔ دینی ضرورت کے تحت وقتی طورپر غیر رشتہ داروں میں حقوق کی شرکت قائم کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ہجرت کے بعد ابتدائی زمانہ میں مدینہ میں کیاگیا۔ مگر مستقل معاشرتی انتظام کے اعتبار سے حقیقی رشتہ دار ہی اولیٰ اور اقرب ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔


Connections

  • Previous: 33_5
  • Next: 33_7
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes