Recitation
Next: 33_51
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَحۡلَلۡنَا لَكَ أَزۡوَٰجَكَ ٱلَّـٰتِيٓ ءَاتَيۡتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتۡ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيۡكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّـٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَٰلَٰتِكَ ٱلَّـٰتِي هَاجَرۡنَ مَعَكَ وَٱمۡرَأَةٗ مُّؤۡمِنَةً إِن وَهَبَتۡ نَفۡسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنۡ أَرَادَ ٱلنَّبِيُّ أَن يَسۡتَنكِحَهَا خَالِصَةٗ لَّكَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۗ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ وَمَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ لِكَيۡلَا يَكُونَ عَلَيۡكَ حَرَجٞۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا
Urdu
اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبیؐ اسے نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت خالصۃً تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے) تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے
English
O Prophet, indeed We have made lawful to you your wives to whom you have given their due compensation and those your right hand possesses from what Allah has returned to you [of captives] and the daughters of your paternal uncles and the daughters of your paternal aunts and the daughters of your maternal uncles and the daughters of your maternal aunts who emigrated with you and a believing woman if she gives herself to the Prophet [and] if the Prophet wishes to marry her, [this is] only for you, excluding the [other] believers. We certainly know what We have made obligatory upon them concerning their wives and those their right hands possess, [but this is for you] in order that there will be upon you no discomfort. And ever is Allah Forgiving and Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran
عام مسلمانوں کےلیے بیویوں کی آخری تعداد کو چار تک محدود رکھاگیا ہے۔ مگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے یہ پابندی نہیں تھی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی خصوصی اجازت کے تحت چار سے زیادہ نکاح کیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ رسول کے اوپر کوئی تنگی نہ رہے۔ تنگی سے مراد پیغمبرانہ مشن کی ادائیگی میں تنگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف دعوتی اور اصلاحی تقاضوں کے تحت ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ آپ زیادہ عورتوں کو اپنے نکاح میں لاسکیں۔ اسی دینی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ کےلیے چار کی قید نہیں رکھی۔ مثال کے طورپر حضرت عائشہ سے نکاح میں یہ مصلحت تھی کہ ایک کم عمر اور ذہین خاتون آپ کی مستقل صحبت میں رہیں تاکہ آپ کے بعد لمبی مدت تک لوگوں کو دین سکھاتی رہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ آپ کی وفات کے بعد نصف صدی تک امت کےلیے ایک زندہ کیسٹ ریکارڈر بنی رہیں۔ اسی طرح حضرت ميمونه بنت الحارث اور حضرت اُم حبیبہ سے نکاح کا یہ فائدہ ہوا کہ خالد بن ولید اور ابو سفیان بن حرب کی مخالفت ہمیشہ کےلیے ختم ہوگئی، وغیرہ۔