Recitation

Next: 33_49


Arabic

وَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَدَعۡ أَذَىٰهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٗا


Urdu

اور ہرگز نہ دبو کفار و منافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپرد کر دے


English

And do not obey the disbelievers and the hypocrites but do not harm them, and rely upon Allah. And sufficient is Allah as Disposer of affairs


Tafsir — Bayan ul Quran

شاہد، مبشر، نذیر، داعی، یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دے۔ یہ ایک دعوتی عمل ہے اور اسی دعوتی عمل کی بنیاد پر پیغمبر آخرت کی عدالت میں ان لوگوں کے بارے میں گواہی دے گا جس پر اس نے امر حق پہنچایا اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا۔ پیغمبر کا جو مشن ہے وہ امت مسلمہ کا مشن بھی ہے۔ اس راہ میں لوگوں کی طرف سے اذیتیں پیش آتی ہیں۔ کوئی ساتھ نہیں دیتا اور کوئی وقتی طورپر ساتھ دیتاہے اور پھر جھوٹے الفاظ بول کر الگ ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف خدا پر بھروسہ ہی وہ چیز ہے جو پیغمبر (یا اس کی پیروی کرنے والے داعی) کو دعوتی عمل پر ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کرنا اور اس کو نظر انداز کرنا اور ہر حال میں خدا پر اپنی نظر جمائے رکھنا، یہی اسلامی دعوت کاکام کرنے والے کا اصل سرمایہ ہے۔


Connections

  • Previous: 33_47
  • Next: 33_49
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes