Recitation
Next: 33_4
Arabic
وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٗا
Urdu
اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے
English
And rely upon Allah; and sufficient is Allah as Disposer of affairs
Tafsir — Bayan ul Quran
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کے داعی تھے۔ اس دنیا میں جو شخص بے آمیز حق کا داعی بن کر اٹھے اس کو نہایت حوصلہ شکن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ پورے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔ کسی کا دنیا پرستانہ مذہب داعی کے آخرت پسندانہ دین سے جوڑ نہیں کھاتا۔ کسی کی زمانہ سازی داعی کی بے لاگ حق پرستی سے ٹکراتی ہے۔ کوئی دین کو اپنی قوم پرستی کا ضمیمہ بنائے ہوئے ہوتا ہے، جب کہ داعی کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ دین کو خالص خدا پرستی کی بنیاد پرقائم کیا جائے۔ ایسی حالت میں داعی اگر ماحول کا دباؤ قبول کرلے تو بہت سے لوگ اس کا ساتھ دینے والے مل جائیں گے۔ اور اگر وہ خالص حق پر قائم رہے تو ایک خدا کے سوا کوئی اور اس کا سہارا نظر نہیں آتا۔ مگر داعی کو کسی حال میں پہلا راستہ نہیں اختیار کرنا ہے۔ اس کو اللہ کے بھروسہ پر خالص حق پر قائم رہنا ہے۔ اور یہ امید رکھنا ہے کہ خدا حکیم اور علیم ہے، وہ ضرور اپنے بندے کی مدد فرمائے گا۔