Recitation
Next: 33_27
Arabic
وَأَنزَلَ ٱلَّذِينَ ظَٰهَرُوهُم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مِن صَيَاصِيهِمۡ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعۡبَ فَرِيقٗا تَقۡتُلُونَ وَتَأۡسِرُونَ فَرِيقٗا
Urdu
پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا، اللہ ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور اُن کے دلوں میں اُس نے ایسا رُعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو
English
And He brought down those who supported them among the People of the Scripture from their fortresses and cast terror into their hearts [so that] a party you killed, and you took captive a party
Tafsir — Bayan ul Quran
غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔ آخر میں خود ان کی درخواست پر سعد بن معاذ حَکَم مقرر ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء 14: 10-20 )