Recitation
Next: 33_15
Arabic
وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِم مِّنۡ أَقۡطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُواْ ٱلۡفِتۡنَةَ لَأٓتَوۡهَا وَمَا تَلَبَّثُواْ بِهَآ إِلَّا يَسِيرٗا
Urdu
اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اُس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا
English
And if they had been entered upon from all its [surrounding] regions and fitnah had been demanded of them, they would have done it and not hesitated over it except briefly
Tafsir — Bayan ul Quran
غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔