Recitation
Next: 32_26
Arabic
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
Urdu
یقیناً تیرا رب ہی قیامت کے روز اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں (بنی اسرائیل) باہم اختلاف کرتے رہے ہیں
English
Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ
Tafsir — Bayan ul Quran
خداکی کتاب کسی گروہ کو ملنا اس کو امامت عالم کی کنجی عطا کرنا ہے۔ مگرامامت عالم کا مقام کسی گروہ کو اس وقت ملتاہے جب کہ وہ صبر کا ثبوت دے۔ لَمَّا صَبَرُواکی تفسیر لَمَّا صَبَرُوا عَنِ الدُّنْيَا سے کی گئی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 463 ) یعنی پیشوائی کا مقام انھیں اس وقت ملا جب کہ انھوں نے دنیا سے صبر کیا۔ لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انھیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کےلیے جئے جب کہ لوگ مفاد کےلیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کےلیے دوڑتے ہیں۔ جو اس وقت حق کےلیے قربان ہوجائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کےلیے قربان ہونا جانتے ہیں۔ یہی صبر ہے اور جولوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔ دین میں نئی نئی تشریح وتعبیر نکال کر جو لوگ اختلافات کھڑے کرتے ہیں وہ اپنے ليے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخر کار خدا ان کی بات کو رد کردے اور اس کے بعد ابدی ذلت کے سوا اور کچھ ان کے حصہ میں نہ آئے — آدمی اکثر حالات میں سبق نہیں لیتا، یہاں تک کہ جو کچھ دوسروں پر گزرا وہی اس پر بھی نہ گزر جائے۔