Recitation
Next: 32_14
Arabic
وَلَوۡ شِئۡنَا لَأٓتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدَىٰهَا وَلَٰكِنۡ حَقَّ ٱلۡقَوۡلُ مِنِّي لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ
Urdu
(جواب میں ارشاد ہو گا) “اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پُوری ہو گئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنّم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا
English
And if We had willed, We could have given every soul its guidance, but the word from Me will come into effect [that] “I will surely fill Hell with jinn and people all together
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان کی تخلیقِ اول اس کی تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھنے کےلیے بالکل کافی ہے۔ مگر جب خدا کے سامنے جواب دہی کا یقین نہ ہو تو آدمی تخلیقِ ثانی کا مذاق اڑاتا ہے، وہ غیر سنجیدہ طورپر مختلف باتیں کرتا ہے۔ مگر یہ جسارت صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی کی امتحانی آزادی کی مدت ختم نہ ہوئی ہو۔ جب یہ مدت ختم ہوگی اور آدمی مر کر خدائے ذو الجلال کے سامنے حساب کےلیے کھڑا ہوگا تو اس کے سارے الفاظ گم ہو جائیں گے۔ اس وقت سرکش لوگ کہیں گے کہ ہم نے مان لیا۔ ہم کو دوبارہ زمین میں بھیج دیجيے تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ مگر ان کا یہ ماننابے فائدہ ہوگا۔ خدا کو اگر اس طرح منوانا ہوتا تو وہ دنیا ہی میں لوگوں کو ماننے کے لیے مجبور کردیتا۔ خدا کے یہاں اس اعتراف کی قیمت ہے، جو بغیر دیکھے کیا گیا ہو۔ دیکھنے کے بعد جو اعتراف کیا جائے اس کی کوئی قیمت نہیں۔