Recitation

Next: (End of Surah)


Arabic

إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ


Urdu

اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے


English

Indeed, Allah [alone] has knowledge of the Hour and sends down the rain and knows what is in the wombs. And no soul perceives what it will earn tomorrow, and no soul perceives in what land it will die. Indeed, Allah is Knowing and Acquainted


Tafsir — Bayan ul Quran

موجودہ دنیا میںامتحان کی مصلحت سے لوگوں کو آزادی دی گئی ہے۔ اس امتحانی آزادی کو آدمی حقیقی آزادی سمجھ لیتاہے۔ یہی سب سے بڑا دھوکا ہے۔ تمام انسانی برائیاں اسی دھوکہ کی وجہ سے پیداہوتی ہیں۔ یہاں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان جو چاہے کرے کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں۔ حالاں کہ آخر کار آدمی کے اوپر اتنا کٹھن وقت آنے والا ہے کہ باپ بیٹا بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے نہ بن سکیں گے۔ ’’قیامت آنے والی ہے تو وہ کب آئے گی‘‘ ایسا سوال کرنا اپنی حد سے تجاوز کرناہے۔ انسان اپنی قریبی اور معلوم دنیا کے بارے میں بھی کل کی خبر نہیں رکھتا۔ مثلاً بارش، پیٹ کا بچہ، معاشی مستقبل، موت، ان چیزوں کے بارے میں کوئی قطعی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اس علمی محدودیت کے باوجود انسان ان حقیقتوں کے واقعہ ہونے کو مانتا ہے۔ اسی طرح قیامت کی گھڑی کے بارے میں بھی اس کو مجمل خبر کی بنیاد پر یقین کرنا چاہيے۔


Connections

  • Previous: 31_33
  • Next: (End of Surah)
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes