Recitation

Next: 31_32


Arabic

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ ٱللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنۡ ءَايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ


Urdu

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے؟ در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو


English

Do you not see that ships sail through the sea by the favor of Allah that He may show you of His signs? Indeed in that are signs for everyone patient and grateful


Tafsir — Bayan ul Quran

سمندر میں کوئی چیز ڈالی جائے تو وہ فوراً ڈوب جائے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پانی کو ایک خاص قانون کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس وجہ سے کشتی اور جہاز اتھاہ سمندروں میں نہیں ڈوبتے، وہ انسان کو اور اس کے سامان کو بحفاظت ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم نشانی ہے۔ مگر اس نشانی سے صرف صابر اور شاکر انسان سبق لیتے ہیں۔ صابر وہ ہے جو اپنے آپ کو غلط احساسات کے زیر اثر جانے سے روکے۔ اور شاکر وہ ہے جو اپنے باہر پائی جانے والی حقیقت کا اعتراف کرسکے۔ تاہم جب سمندر میں طوفان آتاہے تو آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کس قدر بے بس ہے۔ اس وقت وہ ہر ایک کی بڑائی کو بھول کر صرف خدا کو پکارنے لگتاہے۔ یہ تجربہ جو کشتی کے مسافروں کو پیش آتاہے اس سے لوگوں کو سبق لینا چاہیے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو ان واقعات سے سبق لیں اور حق اور عدل کی راہ پر قائم رہیں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت میں پڑے تو خداکو یاد کرلیا اور مصیبت ہٹی تو دوبارہ سرکش اور احسان فراموش بن گئے۔


Connections

  • Previous: 31_30
  • Next: 31_32
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes