Recitation

Next: 30_34


Arabic

وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرّٞ دَعَوۡاْ رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَآ أَذَاقَهُم مِّنۡهُ رَحۡمَةً إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ


Urdu

لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتے ہیں، پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انہیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں


English

And when adversity touches the people, they call upon their Lord, turning in repentance to Him. Then when He lets them taste mercy from Him, at once a party of them associate others with their Lord


Tafsir — Bayan ul Quran

عام حالات میں آدمی اپنے کو بااختیار پاتاہے۔ اس ليے عام حالات میں وہ مصنوعی طورپر سرکش بنا رہتاہے۔ مگر جب نازک حالات اس کو اس کی بے بسی کا تجربہ کراتے ہیں، اس وقت اس کے ذہن کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ اس وقت وہ اصلی انسان (man cut to size) بن جاتا ہے جو کہ وہ حقیقۃً ہے۔ اس وقت وہ اپنی عاجزانہ حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ نفسیات کی سطح پر توحید الٰہ کا ثبوت ہے۔ اس طرح انسان کو اس کے ذاتی تجربہ میں حقیقت کا چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ مگر آدمی اتنا نادان ہے کہ جیسے ہی حالات بدلے وہ دوبارہ پہلے کی طرح غفلت اور سرکشی میں مبتلا ہوجاتاہے۔


Connections

  • Previous: 30_32
  • Next: 30_34
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes