Recitation

Next: 30_26


Arabic

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ بِأَمۡرِهِۦۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمۡ دَعۡوَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ إِذَآ أَنتُمۡ تَخۡرُجُونَ


Urdu

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جونہی کہ اُس نے تمہیں زمین سے پکارا، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے


English

And of His signs is that the heaven and earth remain by His command. Then when He calls you with a [single] call from the earth, immediately you will come forth


Tafsir — Bayan ul Quran

اتھاہ خلا میں زمین اور سورج اور سیاروں اور ستاروں کا نظام اس قدر حیرت ناک حد تک نادر واقعہ ہے کہ وہ خود بول رہا ہے کہ وہ کسی قائم رکھنے والے کی قدرت سے قائم ہے۔ اور کسی چلانے والے کے زور پر چل رہا ہے۔ یہ غیر معمولی مدد اگر ایک لمحہ کےلیے بھی اس سے جدا ہو تو وہ بالکل درہم برہم ہوجائے۔ اس دنیامیں ایک معمولی ہوائی جہاز بھی پائلٹ کا کنٹرول کھونے کے بعد برباد ہوجاتاہے، پھر کائنات کا اتنا بڑا کارخانہ کسی کنٹرولر کے کنٹرول کے بغیر کیسے چل سکتا ہے۔ کائنات کا خالق کائنات میں اپنی قدرت کا جو مظاہرہ کررہاہے اس کے لحاظ سے اس کےلیے یہ کام آسان تر ہے کہ وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے۔ تخلیق اول کا جو مظاہرہ کائنات میں ہر آن ہورہا ہے اس کے بعد تخلیق ثانی کو مانناایسا ہی ہے جیسے ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا۔ کائنات میں خدا کی قدرت اور اس کی حکمت کا اظہار اتنی اعلیٰ سطح پر ہور ہا ہے کہ اس کے بعد کسی بھی کارنامہ کو خدا کی طرف منسوب کرنا کوئی مستبعد چیز نہیں۔


Connections

  • Previous: 30_24
  • Next: 30_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes