Recitation
Next: 3_21
Arabic
فَإِنۡ حَآجُّوكَ فَقُلۡ أَسۡلَمۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسۡلَمۡتُمۡۚ فَإِنۡ أَسۡلَمُواْ فَقَدِ ٱهۡتَدَواْۖ وَّإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ
Urdu
اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں، توا ن سے کہو: “میں نے اور میرے پیروؤں نے تو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے” پھر اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں سے پوچھو: “کیا تم نے بھی اس کی اطاعت و بندگی قبول کی؟” اگر کی تو وہ راہ راست پا گئے، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے
English
So if they argue with you, say, “I have submitted myself to Allah [in Islam], and [so have] those who follow me.” And say to those who were given the Scripture and [to] the unlearned, “Have you submitted yourselves?” And if they submit [in Islam], they are rightly guided; but if they turn away - then upon you is only the [duty of] notification. And Allah is Seeing of [His] servants
Tafsir — Bayan ul Quran
کائنات کا خدا ایک ہی خداہے اور وہ عدل وقسط کو پسند کرتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کررہی ہیں۔ پھیلی ہوئی کائنات جس كو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ ثابت شدہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کاخدا عد ل کو پسند کرنے والا خدا ہے، نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کيے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملے میں خلافِ عدل باتوں پرکیسے راضی ہوجائے گا۔ کائنات کا ہر جزء کامل طورپر ’’مسلم‘‘ ہے۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور بنیاد پر ہوسکتا ہے، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لیے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے۔ جو لوگ اس سے اختلاف کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں هے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں داعیٔ قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کردیں جو حق کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ داعیٔ حق کی زبان کو بند کرنے کے لیے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عد ل کا ترازو کھڑا ہوگا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے وہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کيے ہوئے تھے — سچی دلیل خدا کی نشانی ہے۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔