Recitation

Next: 3_155


Arabic

ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيۡكُم مِّنۢ بَعۡدِ ٱلۡغَمِّ أَمَنَةٗ نُّعَاسٗا يَغۡشَىٰ طَآئِفَةٗ مِّنكُمۡۖ وَطَآئِفَةٞ قَدۡ أَهَمَّتۡهُمۡ أَنفُسُهُمۡ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ ظَنَّ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ مِن شَيۡءٖۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَمۡرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِۗ يُخۡفُونَ فِيٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبۡدُونَ لَكَۖ يَقُولُونَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَيۡءٞ مَّا قُتِلۡنَا هَٰهُنَاۗ قُل لَّوۡ كُنتُمۡ فِي بُيُوتِكُمۡ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَتۡلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمۡۖ وَلِيَبۡتَلِيَ ٱللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ


Urdu

اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے مگر ایک دوسرا گروہ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف حق تھے یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ، “اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟” ان سے کہو “(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اِس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں” دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اُسے تم پر ظاہر نہیں کرتے ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ، “اگر (قیادت کے) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے” ان سے کہہ دو کہ، “اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے” اور یہ معاملہ جو پیش آیا، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اُسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اُسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے


English

Then after distress, He sent down upon you security [in the form of] drowsiness, overcoming a faction of you, while another faction worried about themselves, thinking of Allah other than the truth - the thought of ignorance, saying, “Is there anything for us [to have done] in this matter?” Say, “Indeed, the matter belongs completely to Allah.” They conceal within themselves what they will not reveal to you. They say, “If there was anything we could have done in the matter, some of us would not have been killed right here.” Say, “Even if you had been inside your houses, those decreed to be killed would have come out to their death beds.” [It was] so that Allah might test what is in your breasts and purify what is in your hearts. And Allah is Knowing of that within the breasts


Tafsir — Bayan ul Quran

زندگی کے معرکہ میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی کا چین اس سے رخصت نہ ہو۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا منصوبہ بنانے کے قابل رہے۔ اللہ پر بھروسہ کی وجہ سے اہلِ ایمان کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ حتی کہ ہلادینے والے موقع پر جب کہ لوگوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ اس قابل رہتے ہیں کہ ایک نیند لے کر دوبارہ تازہ دم ہوسکیں۔ احد کے موقع پر اس کا ایک مظاہرہ اس طرح ہوا کہ شکست کے بعد سخت ترین حالات کے باوجود وہ سو سکے اور اگلے دن حمراء الاسد تک دشمن کا پیچھا کیا، جو مدینہ سے ۸ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے نتیجہ میں فاتح دشمن مرعوب ہو کر مکہ واپس چلا گیا۔ یہ سچے اہل ایمان کا حال ہے۔مگر جو لوگ پورے معنوں میں اللہ کو اپنا ولی وسرپرست بنائے ہوئے نہ ہوں، ان کو ہر طرف بس اپنی جان کا خطرہ نظر آتا ہے۔ دین کی فکر سے خالی لوگ اپنی ذات کی فکر میں پڑے رہتے ہیں وہ اللہ کی نصرتِ اطمینان میں سے اپنا حصہ نہیں پاتے۔ احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبي کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر جنگ کی جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلص مسلمانوں کے مشورہ پر باہر نکلے اور احد پہاڑ کے دامن میں مقابلہ کیا۔ درّہ پر متعین دستہ کی غلطی سے جب شکست ہوئی تو ان لوگوں کو موقع ملا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ اگر ہماری بات مانی گئی ہوتی اور مدینہ میں رہ کر لڑتے تو اس بربادی کی نوبت نہ آتی۔ مگر موت خدا کی طرف سے ہے اور وہیں آکر رہتی ہے جہاں وہ کسی کے لیے لکھی ہوئی ہے۔ احتیاطی تدبیریں کسی کو موت سے بچا نہیں سکتیں۔ اس طرح کے واقعات، خواہ بظاہر ان کا جو سبب بھی نظر آئے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ کے سچے بندے اللہ کی طرف رجوع کرکے مزید رحمتوں کے مستحق بنیں۔ اور جو سچے نہیں ہیں ان کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔ احد کے درہ پر جو پچاس تیر انداز متعین تھے جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو فتح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اصرار کیاکہ چل کر مال غنیمت لوٹیں ۔ مگر عبد اللہ بن جبیرؓ او ران کے کچھ ساتھیوں نے کہا نہیں۔ ہم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے کیوں کہ یہی رسول اللہ کا حکم ہے۔ بالآخر گیارہ کو چھوڑ کر بقیہ لوگ چلے گئے۔ باہمی اختلاف کی اس کمزوری سے شیطان نے اندر داخل ہونے کا راستہ پالیا۔ تاہم انھوں نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اللہ نے ان کو معاف کردیا اور ابتدائی نقصان کے بعد ان کی مدد اس طرح کی کہ دشمنوں کے دل میں رعب ڈال کر ان کو واپس کردیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ مدینہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔


Connections

  • Previous: 3_153
  • Next: 3_155
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes