Recitation
Next: 29_68
Arabic
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا ءَامِنٗا وَيُتَخَطَّفُ ٱلنَّاسُ مِنۡ حَوۡلِهِمۡۚ أَفَبِٱلۡبَٰطِلِ يُؤۡمِنُونَ وَبِنِعۡمَةِ ٱللَّهِ يَكۡفُرُونَ
Urdu
کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ اِن کے گرد و پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں؟
English
Have they not seen that We made [Makkah] a safe sanctuary, while people are being taken away all around them? Then in falsehood do they believe, and in the favor of Allah they disbelieve
Tafsir — Bayan ul Quran
مکہ کا حرم اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ہے۔ اللہ نے لوگوں کے اوپر اس کا ایسا رعب بٹھا رکھا ہے کہ وہاں پہنچ کر ظالم اور سرکش بھی اپنا ظلم اور سرکشی بھول جاتے ہیں۔ حرم کا یہ تقدس خدا کی قدرت کی ایک نشانی تھا۔ اس کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے دل خدا کےلیے جھک جائیں۔ مگر باطل پرستوں نے یہ کیا کہ غیر خدا میں خداکے اوصاف فرض کرکے لوگوں کے جذباتِ پرستش کو بالکل غلط طورپر ان کی طرف پھیر دیا۔ ان کا مزید ظلم یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے جب ان کو نصیحت کی کہ ان مفروضہ خداؤں کو چھوڑو اور ایک خدا کے آگے جھک جاؤ تو وہ رسول کے دشمن بن گئے۔ ناحق پرستی کے ماحول میں حق پرست بننا ایک شدید مجاہدہ کا عمل ہے۔ اس میں ملی ہوئی چیز چھنتی ہے۔ حاصل شدہ سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ مگر اسی محرومی میں ایک عظیم یافت کا راز چھپا ہوا ہے۔ اور وہ معرفت اور بصیرت ہے۔ ایسے لوگوں کےلیے انسانوں کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ مگر ان کےلیے خدا کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ دنیا سے کھو کر خدا سے پانے لگتے ہیں۔ وہ مادی راحتوں سے د ور ہو کر ربانی کیفیات سے قریب ہوجاتے ہیں۔ ظاہری چیزیں ان سے اوجھل ہوتی ہیں مگر معنوی چیزیں ان پر منکشف ہوجاتی ہیں۔ ان پر وہ گہرے بھید کھلنے لگتے ہیں جن کی بڑے بڑے لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔