Recitation
Next: 29_53
Arabic
قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيدٗاۖ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ وَكَفَرُواْ بِٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
Urdu
(اے نبیؐ) کہو کہ “میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں
English
Say, “Sufficient is Allah between me and you as Witness. He knows what is in the heavens and earth. And they who have believed in falsehood and disbelieved in Allah - it is those who are the losers
Tafsir — Bayan ul Quran
جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کو اس طرح کی نشانیاں کیوں نہیں دی گئیں جیسی نشانیاں مثال کے طورپر موسیٰ کو دی گئی تھیں۔ فرمایا کہ نشانیاں اللہ کے پاس ہیں۔ یعنی نشانیوں (معجزے) کا تعلق خدا سے ہے، نہ کہ پیغمبر سے۔ پیغمبر کی دعوت کا اصل انحصار دلائل پر ہوتاہے۔ پیغمبر ہمیشہ دلائل کے زور پر اپنی دعوت پیش کرتا ہے۔ البتہ دوسرے مصالح کے تحت خدا کبھی کسی پیغمبر کو نشانی (معجزہ) دے دیتاہے اور کبھی نہیں دیتا۔ ایمان ایک شعوری واقعہ ہے۔ وہی ایمان ایمان ہے جو دلیل سے مطمئن ہو کر کسی بندہ کے دل میں ابھرا ہو۔ جو شخص دلیل کی روشنی میں جانچ کر کسی چیز کو مانے وہ حق پرست ہے اور جو شخص دوسری غیرمتعلق بحثیں نکالے وہ باطل پرست۔