Recitation
Next: 29_50
Arabic
بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّـٰلِمُونَ
Urdu
دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے دلوں میں جنہیں عِلم بخشا گیا ہے، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں
English
Rather, the Qur’an is distinct verses [preserved] within the breasts of those who have been given knowledge. And none reject Our verses except the wrongdoers
Tafsir — Bayan ul Quran
لوگوں میں دو قسم کے افراد ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کو پہلے سے سچائی کا علم حاصل ہوتا ہے۔ اور دوسرے وہ لوگ جو بظاہر سچائی کا علم نہیں رکھتے۔ تاہم یہ دوسری قسم کے لوگ بھی فطرت کی سطح پر سچائی سے آشنا ہوتے ہیں۔ اول الذکر اگر حامل کتاب ہیں تو ثانی الذکر حامل فطرت۔ اگر لوگ فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ فوراً حق کو پہچان لیں گے۔ ایک گروہ اگر اس کو کتابِ آسمانی کی سطح پر پہچان لے گا تو دوسرا گروہ کتابِ فطرت کی سطح پر۔ ہر ایک کو سچائی کی بات اپنے دل کی بات نظر آئے گی۔ مگر اکثر حالات میں لوگ طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر انکار کا مزاج آجاتاہے۔ وہ سچائی کا انکار ہی کرتے رہتے ہیں، خواہ اس کی پشت پر کتنے ہی قرائن جمع ہوں اور اس کے حق میں کتنے ہی زیادہ دلائل دے دئے جائیں۔