Recitation

Next: 29_3


Arabic

أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ


Urdu

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ “ہم ایمان لائے ” اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟


English

Do the people think that they will be left to say, “We believe” and they will not be tried


Tafsir — Bayan ul Quran

آدمی کے مومن ومسلم ہونے کا فیصلہ معمول کے حالات میں کيے جانے والے عمل پر نہیں ہوتا۔ بلکہ اس عمل پر ہوتاہے جو آدمی غیر معمولی حالات میں کرتاہے۔ یہ غیر معمولی حالات وہ غیر معمولی مواقع ہیں جب کہ یہ کھل جاتاہے کہ آدمی حقیقت میں وہ ہے یا نہیں جس کا دعویٰ وہ اپنے ظاہری عمل سے کررہا ہے۔ جو لوگ غیرمعمولی حالات میں ایمان واسلام پر قائم رہنے کا ثبوت دیں وہی خدا کے نزدیک حقیقی معنوں میں مومن ومسلم قرار پاتے ہیں۔ جانچ میں پورا اترنا، بالفاظ دیگر، قربانی کی سطح پر ایمان واسلام والا بننا ہے۔ یعنی جب عام لوگ انکار کردیتے ہیں اس وقت تصدیق کرنا۔ جب لوگ شک کرتے ہیں اس وقت یقین کرلینا۔ جب اپنی اَنا کو کچلنے کی قیمت پر مومن بننا ہو اس وقت مومن بن جانا۔ جب نہ مان کر کچھ بگڑنے والا نہ ہو اس وقت مان لینا۔ جب ہاتھ روکنے کے تقاضے ہوں اس وقت خرچ کرنا۔ جب فرار کے حالات ہوں اس وقت جمنے کا ثبوت دینا۔ جب اپنے آپ کو بچانے کا وقت ہو اس وقت اپنے آپ کو حوالے کردینا۔ جب سرکشی کا موقع ہو اس وقت سرتسلیم خم کردینا۔ جب سب کچھ لٹا کر ساتھ دینا ہو اس وقت ساتھ دینا۔ ایسے غیر معمولی مواقع پر اندر والا انسان باہر آجاتاہے۔ اس کے بعد کسی کے ليے یہ موقع نہیں رہتا کہ وہ فرضی الفاظ بول کر اپنے کو وہ ظاہر کرے جو کہ حقیقت میں وہ نہیں ہے۔


Connections

  • Previous: 29_1
  • Next: 29_3
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes