Recitation

Next: 28_60


Arabic

وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبۡعَثَ فِيٓ أُمِّهَا رَسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۚ وَمَا كُنَّا مُهۡلِكِي ٱلۡقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهۡلُهَا ظَٰلِمُونَ


Urdu

اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے


English

And never would your Lord have destroyed the cities until He had sent to their mother a messenger reciting to them Our verses. And We would not destroy the cities except while their people were wrongdoers


Tafsir — Bayan ul Quran

دنیا میں کسی کو مادی استحکام حاصل ہو تو وہ بڑائی کے احساس میںمبتلا ہوجاتا ہے۔حالاں کہ تاریخ مسلسل یہ سبق دے رہی ہے کہ کسی بھی شخص یا قوم کا مادی استحکام مستقل نہیں۔ جب بھی کسی قوم نے حق کو نظر انداز کیا، ساری عظمت کے باوجود وہ ہلاک کردی گئی۔ عرب کے جغرافیہ میںاسلام سے پہلے مختلف قومیں ابھریں۔ مثلاً عاد، ثمود، سبا، مدین، قوم لوط وغیرہ۔ ہر ایک کبر میں مبتلا ہوگئی۔ مگر ہر ایک کا کبر زمانہ نے باطل کر دیا۔ اور بالآخر ان کی حیثیت گزری ہوئی کہانی کے سوا اور کچھ نہ رہی۔ ان قوموں کے کھنڈر چاروں طرح پھیلے ہوئے انسانی عظمت کی نفی کررہے تھے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام کے زمانہ میں جن لوگوں کو بڑائی حاصل تھی انھوںنے پیغمبر کو اس طرح جھٹلادیا جیسے کہ ماضی کے واقعات میں ان کے حال کے ليے کوئی نصیحت نہیں۔


Connections

  • Previous: 28_58
  • Next: 28_60
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes