Recitation
Next: 28_48
Arabic
وَلَوۡلَآ أَن تُصِيبَهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَيَقُولُواْ رَبَّنَا لَوۡلَآ أَرۡسَلۡتَ إِلَيۡنَا رَسُولٗا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ وَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
Urdu
(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ) کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں “اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے
English
And if not that a disaster should strike them for what their hands put forth [of sins] and they would say, “Our Lord, why did You not send us a messenger so we could have followed Your verses and been among the believers
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قدیم مصریوں کے سامنے اپنا پیغام رسالت پیش کیا تو اسی کے ساتھ آپ نے معجزے بھی دکھائے۔ مگر ان لوگوں نے نہیں مانا اور کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میں دلائل کی بنیاد پر حق کی دعوت پیش کی تو انھوںنے کہا کہ اگر یہ پیغمبر ہیں تو موسیٰ جیسے معجزے کیوں نہیں دکھاتے۔ یہ سب غیر سنجیدہ ذہن سے نکلی ہوئی باتیں ہیں۔ موجودہ دنیا میں حق کو ماننے کے ليے سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ ہو۔ جو شخص حق ا ور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو اس کو کوئی بھی چیز حق کے اعتراف پر مجبور نہیں کرسکتی۔ وہ ہر بار نئے عذر تلاش کرلے گا۔ وہ ہر بات کے جوا ب میں نئے الفاظ پالے گا۔