Recitation

Next: 28_5


Arabic

إِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلَ أَهۡلَهَا شِيَعٗا يَسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَةٗ مِّنۡهُمۡ يُذَبِّحُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ


Urdu

واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا


English

Indeed, Pharaoh exalted himself in the land and made its people into factions, oppressing a sector among them, slaughtering their [newborn] sons and keeping their females alive. Indeed, he was of the corrupters


Tafsir — Bayan ul Quran

فرعون کو یہاں فساد فی الارض کا مجرم بتایا گیاہے۔ فرعون کا فساد یہ تھا کہ اس نے مصر کی دو قوموں میں امتیاز کیا۔ قبطی قوم جو اس کی اپنی قوم تھی، اس کو اس نے ہر قسم کے مواقع دئے، اور بنی اسرائیل کو نہ صرف مواقع سے محروم کیا بلکہ ان کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنا شروع کیا۔ تاکہ دھیرے دھیرے ان کی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ فرعون کا یہ عمل فطرت کے نظام میں مداخلت تھا۔ خدا کے قانون میں، نظام فطرت سے مطابقت کا نام اصلاح ہے اور نظام فطرت میں مداخلت کا نام فساد۔ عزت اور بے عزتی کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ خدا نے اس کے برعکس فیصلہ کیا جو فرعون نے فیصلہ کیا تھا۔ خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو عزت اور اقتدار دے اور فرعون کو اس کی فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔


Connections

  • Previous: 28_3
  • Next: 28_5
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes