Recitation

Next: 28_28


Arabic

قَالَ إِنِّيٓ أُرِيدُ أَنۡ أُنكِحَكَ إِحۡدَى ٱبۡنَتَيَّ هَٰتَيۡنِ عَلَىٰٓ أَن تَأۡجُرَنِي ثَمَٰنِيَ حِجَجٖۖ فَإِنۡ أَتۡمَمۡتَ عَشۡرٗا فَمِنۡ عِندِكَۖ وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أَشُقَّ عَلَيۡكَۚ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ


Urdu

اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے) کہا “میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا تم اِن شاءاللہ مجھے نیک آدمی پاؤ گے


English

He said, “Indeed, I wish to wed you one of these, my two daughters, on [the condition] that you serve me for eight years; but if you complete ten, it will be [as a favor] from you. And I do not wish to put you in difficulty. You will find me, if Allah wills, from among the righteous


Tafsir — Bayan ul Quran

لڑکیاں اس دن معمول سے کچھ پہلے گھر پہنچ گئیں والد نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آج ایک مسافر نے ہماری بکریوں کو پہلے ہی پانی پلا دیا۔لڑکیوں کے والد نے کہا کہ پھر تم اس مسافر کو گھر کیوں نہ لائیں کہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔ چنانچہ ایک لڑکی دوبارہ کنویں پر گئی اور حضرت موسیٰ کوبلا کر لے آئی۔ چند دن کے تجربے نے بتایا کہ حضرت موسیٰ محنتی بھی ہیں اور امانت دار بھی۔ چنانچہ مذکورہ بزرگ نے اپنی بیٹی کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو اپنے یہاں مستقل خدمت کے ليے رکھ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صفات، امانت اور قوت (honesty & hard working) تمام ضروری صفات کی جامع ہیں۔ آدمی کے انتخاب کے ليے معیار مقرر کرنا ہو تو ان دولفظوں سے بہتر کوئی معیار نہیں ہوسکتا۔بعد کو مذکورہ بزرگ نے اپنی ایک لڑکی کی شادی بھی حضرت موسیٰ سے کردی۔ تاہم چوں کہ اس وقت انھیں اپنے گھر اور جائداد کی دیکھ بھال کے ليے ایک مرد کی شدید ضرورت تھی، انھوں نے حضرت موسیٰ کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ آٹھ سال یادس سال تک ان کے یہاں قیام کریں۔ اس کے بعد وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔


Connections

  • Previous: 28_26
  • Next: 28_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes