Recitation
Next: 26_6
Arabic
وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن ذِكۡرٖ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ مُحۡدَثٍ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهُ مُعۡرِضِينَ
Urdu
اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں
English
And no revelation comes to them anew from the Most Merciful except that they turn away from it
Tafsir — Bayan ul Quran
حق کی دعوت جب ظاہر ہوتی ہے تو وہ ہمیشہ کلام مبین میں ظاہر ہوتی ہے۔ کسی دعوت کے خدائی دعوت ہونے کی یہ بھی ایک علامت ہے کہ اس کی ہر بات واضح ہو۔ اس کی ہر بات کھلے ہوئے دلائل پر مبنی ہو ایک شخص اس کا انکار تو کرسکے مگر کوئی شخص واقعی طورپر یہ کہنے کی پوزیشن میںنہ ہو کہ اس کا پیغام میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ’’شاید تم اپنے آپ کو ہلاک کرلوگے‘‘ کاجملہ اس کامل خیر خواہی کو بتا رہا ہے جو داعی کو مدعو کے حق میں ہوتی ہے۔ دعوتی عمل خالص خیر خواہی کے جذبہ سے ابلتا ہے۔ اس ليے داعی جب دیکھتاہے کہ مدعو اس کے پیغام کو نہیں مان رہا ہے تو وہ اس کے غم میںاس طرح ہلکان ہونے لگتاہے جس طرح ماں اپنے بچہ کی بھلائی کے ليے ہلکان ہوتی ہے۔ قرآن کا یہ جملہ داعیِ قرآن کی خیر خواہانہ کیفیت کی تصدیق ہے، نہ کہ اس پر تنقید۔ حق کی دعوت خدا کی دعوت ہوتی ہے۔ خدا وہ طاقت ور ہستی ہے جس کے مقابلہ میں کسی کے ليے انکار و سرکشی کی گنجائش نہ ہو۔ مگر یہ صورت حال خود خدا کے اپنے منصوبہ کی بناپر ہے۔ خدا کو اپنی جنت میں بسانے کے ليے وہ قیمتی انسان درکار ہیں جو فریب سے بھری ہوئی دنیا میں حق کو پہچانیں اور کسی دباؤ کے بغیر اس کے آگے جھک جائیں۔ ایسے انسانوں کا چناؤ ایسے ہی حالات میں کیا جاسکتا تھا جہاں ہر انسان کو فکر وعمل کی پوری آزادی دی گئی ہو۔