Recitation
Next: 26_119
Arabic
فَٱفۡتَحۡ بَيۡنِي وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحٗا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِيَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
Urdu
اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے
English
Then judge between me and them with decisive judgement and save me and those with me of the believers
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت نوح صدیوں تک اپنی قوم کے لوگوں کو حق کی طرف بلاتے رہے۔ مگر انھوںنے آپ کی بات نہ مانی۔ حتی کہ آخر کار انھوں نے فیصلہ کیا کہ سب لوگ مل کر نوح کو پتھر ماریں، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور پھر صبح وشام ان کی بات سننے سے نجات مل جائے۔ جب قوم اس حد کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوا کہ اب اس قوم کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی فیصلہ ہے جو حضرت نوح کی دعا کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی، اس میں حضرت نوح کے تمام ساتھی اور ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا رکھ لیا گیا۔ اس کےبعد اللہ نے شدید طوفان بھیجا۔ زمین سےپانی ابلنے لگا اور اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ کشتی کے سوا ساری زندہ مخلوق فنا ہوگئی۔ یہ ایک تاریخی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دنیا میں نجات سچے اہل ایمان کے ليے ہے اور باقی لوگوں کے ليے یہاں ہلاکت کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔