Recitation
Next: 25_10
Arabic
ٱنظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُواْ لَكَ ٱلۡأَمۡثَٰلَ فَضَلُّواْ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ سَبِيلٗا
Urdu
دیکھو، کیسی کیسی عجیب حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات اِن کو نہیں سوجھتی
English
Look how they strike for you comparisons; but they have strayed, so they cannot [find] a way
Tafsir — Bayan ul Quran
حق کے ہر داعی کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ اس کے زمانہ کے لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا۔ اور بعد کے لوگوں نے اس کی پرستش کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی زندگی میں وہ اپنی حقیقی شخصیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔ اس ليے وہ انھیں بس ایک عام انسان کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ مگر بعد کو اس کی شخصیت کے گرد افسانوی قصوں کا ہالہ بن جاتا ہے۔ بعد کے لوگ اس کو مبالغہ آمیز روپ میں دیکھتے ہیں۔ اس ليے بعد کے لوگ مبالغہ آمیز حد تک اس کی تعظیم وتقدیس کرنے لگتے ہیں۔ بعد کے زمانے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیغمبر کی غیر معمولی عظمت قائم ہوجاتی ہے۔ اس ليے کوئی بڑا اپنے آپ کو پیغمبر سے بڑا نہیں پاتا۔ مگر پیغمبر کی زندگی میں اس کی جو ظاہری صورت حال ہوتی ہے وہ وقت کے بڑوں کو موقع دیتی ہے کہ وہ پیغمبر کے مقابلہ میں متکبرانہ نفسیات میں مبتلا ہوسکیں۔ ایسے لوگ جب کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ پیغمبر کی باتوں کو سن کر متاثر ہورہے ہیں تو وہ ان کے تاثر کو گھٹانے کے ليے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ایک مجنون ہے، یہ تو ایک سحر زدہ انسان ہے، وغیرہ۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر عیب لگانے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ حالاں کہ دلیل کے ذریعہ کسی کو ردکرنا عین درست ہے جب کہ عیب لگا کر کسی کو بدنام کرنا سراسر نادرست۔