Recitation
Next: 25_73
Arabic
وَٱلَّذِينَ لَا يَشۡهَدُونَ ٱلزُّورَ وَإِذَا مَرُّواْ بِٱللَّغۡوِ مَرُّواْ كِرَامٗا
Urdu
(اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں
English
And [they are] those who do not testify to falsehood, and when they pass near ill speech, they pass by with dignity
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا میں جو غلط کام ہیں ان سب کا معاملہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کو ظاہری طورپر خوب صورت بنا رکھا ہے۔ ہر باطل پرست اپنے نظریہ کو خوش نما الفاظ میں پیش کرتاہے۔ اسی ظاہر فریبی کی وجہ سے لوگ ان چیزوں کی طرف کھنچتے ہیں۔ اگر ان کے اس ظاہری غلاف کو ہٹا دیا جائے تو ہر چیز اتنی مکروہ دکھائی دینے لگے کہ کوئی شخص اس کے قریب جانے کے ليے تیار نہ ہو۔ اس اعتبار سے ہر برائی ایک قسم کا جھوٹ ہے جس میںآدمی مبتلا ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ جھوٹ کو پہچانے۔ وہ ظاہری پردہ کو پھاڑ کر چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھ سکے۔ جب کسی کو ایک ایسی نصیحت کی جائے جس میں اس کی ذات پر زد پڑتی ہو تو وہ فوراً بپھر اٹھتاہے۔ ایسا شخص خدا کی نظر میں اندھا بہرا ہے۔ کیوں کہ اس نے اپنی آنکھ سے یہ کام نہ لیا کہ وہ حقیقت کو دیکھے۔ اس نے اپنے کان سے یہ کام نہ لیا کہ وہ سچائی کی آواز کو سنے۔ اس نے نصیحت کا استقبال سننے اور دیکھنے والے آدمی کی حیثیت سے نہیں کیا۔ اس نے نصیحت کا استقبال ایک ایسے آدمی کی حیثیت سے کیا جو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو۔ خدا کی نظر میں دیکھنے اور سننے والا وہ ہے جو لغو کو دیکھے تو اس سے اعراض کرے اور جب اس کے سامنے سچی نصیحت آئے تو فوراً اس کو قبول کرلے۔ ہر آدمی جو کنبہ والا ہے وہ اپنے کنبہ کا ’’امام‘‘ ہے۔ اگر اس کے کنبہ والے متقی ہیں تو وہ متقیوں کا امام ہے۔ اور اگر اس کے کنبہ والے خدا فراموش ہیں تو وہ خدا فراموشوں کا امام۔